اُڈپی:17؍اکتوبر(ایس اؤ نیوز) ٹائلٹ کے گڑھوں میں جمع ہونے والے فضلات ، زمین میں جذب ہوکر زیر زمین پانی کو گدلا نہ کرنے کامقصد لےکر مرکزی حکومت نے ’’ٹائگر ٹائلٹ‘‘ تعمیر ی منصوبے پر غور کررہی ہے۔ مرکزی حکومت کے اس منصوبے کو لے کر اُڈپی میں عملی تجرباتی نفاذ کیاگیا ہے۔
سوچھ بھارت مشن کے تحت ضلع کے کڈتل اور امبلپاڑی گرام پنچایت حدود کے 100گھروں کو مفت میں ٹائگر ٹائلٹ (ورمی فلٹر کامپوسٹنگ ٹائلٹ) تعمیر کرکے دیاگیا ہے۔
کیا ہے ٹائگر ٹائلٹ ؟: ٹائلٹ کے فضلات جمع ہونے والے گڑھے (پِٹ)بہت ہی گہرے ہوتے ہیں، یہاں جمع ہونے والا فضلے کی بو زیر زمین جذب ہوکر زیر زمین پانی کو گدلا کرتی ہے۔ اور جب گڑھے بھر جاتےہیں تو اس کو پاک کرنا جتنا کٹھن ہوتاہے اتنا ہی مہنگا بھی ہوتاہے۔ سوچھ بھارت مشن کے ضلع ذمہ دار رگھوناتھ نے اس تعلق سے خیال ظاہر کرتےہوئے بتایا کہ موجود ہ مسائل کے پیش نظر ٹائگر ٹائلٹ کو ایک حل کے طورپر عملی تجربہ کیا جارہاہے۔
کیسے تعمیر کی جاتی ہے؟:ٹائگر ٹائلٹ کے لئے 3x4فٹ مربع وسعت والا 5فٹ گہرا گڑھا کھودا جاتاہے۔ ترتیب وار 100،40 ،20،6ایم ایم حجم والی جھلی استعمال کرنے کےبعد تقطیری بستر ( فلٹر بیڈ) تعمیر کیاجاتاہے۔ بیڈ پر نامیاتی کھاد پھیلاکر ٹائگر ارتھ ورمس نامی کیڑوں کو چھوڑا جاتاہے۔ گڑھے میں جمع ہونےوالے فضلے کو کیڑے کھا کر نامیابی کھاد میں منتقل کرتےہیں۔ فضلے کی بو فلٹر بیڈکے ذریعے نیچے چلی تو جاتی ہے لیکن زیرزمین پانی کو گدلا نہیں کرتی ۔ رگھو ناتھ کا کہنا ہےکہ گڑھا بھرنے کے بعد کھاد کو باہر نکال کر استعمال کیا جاسکتاہے جب کہ اس میں بو بھی نہیں رہتی ۔ موجودہ استعمال کئےجانے والے ٹائلٹس کو بھی ٹائگر ٹائلٹس میں منتقل کیا جاسکتاہے لیکن اس کےکچھ حدود ہیں۔اس کی تعمیر میں 7ہزار روپیوں کی لاگت آتی ہے۔ ٹائلٹ جانے والے 3سے 5لیٹر پانی ہی استعمال کرسکتےہیں اور ٹائلٹ کی روزانہ صفائی لازمی ہونےکی بات کہی ۔
ٹائگر ٹائلٹ صرف پیشاب کے لئے استعمال نہیں کئے جاسکتے، ٹائلٹ کے اندر بیڑی ، سگریٹ نوشی، تمباکو نوشی نہیں کرسکتے ، پلاسٹک ، سانیٹری پیاڈ نہیں پھینک سکتے ۔ جب کہ اس کے اندر نہا سکتےہیں۔رگھوناتھ نے ٹائگرٹائلٹ کو لےکر مرکزی حکومت کو رپورٹ سونپنے کی جانکاری دی۔
پرائم موؤ ادارے کی ٹکنالوجی : ٹائگر ٹائلٹ /ورمی فلٹر کامپوسٹنگ ٹکنالوجی کو مہاراشٹرا کے پونے کا پرائم موؤ نامی ادارے نے تیارکیاہے۔ ٹائگر ارتھ ورمس نامی کیڑوں کی خاصیت یہ ہے کہ وہ فضلے کو کھاکر تیزی سے نامیاتی کھاد تیارکرتے ہیں۔ ان کیڑوں کو فروخت کرنے کا لائسنس صرف پرائم موؤ ادارے کے پاس ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتاہے تو مرکزی حکومت ٹائگر ٹائلٹ کی تعمیر کے لئے رعایت منظور کئے جانےکی رگھو ناتھ نے جانکاری دی ۔